خطبہ جمعہ انتہائی جوشیلے انداز میں دینے والے اس نوجوان کو نکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھے ابھی 24 گھنٹے بھی نہی گذرے تھے۔ وہ منبر رسول پر کھڑا انتہائی بالغانہ انداز میں موضوع پر گرفت رکھتے ہوئے جوشیلے لہجے میں سامعین کو جھنجھوڑ رہا تھا۔ اس کا خطاب سنتے ہوئے میں گذشتہ شب کے اول حصہ میں کھو گیا جب اسی منبر پر اسی نوجوان کے نکاح خواں نمازیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قحط الرجال کا ذکر کررہے تھے اور دین کی خدمت کے لئے علماء کی قلت پر ایک حقیقی علم کے حصول اور اس کے افراد تیار کرنے والوں کو رسول اللہ کی طرف سے دی جانے والی خوشخبریاں سنارہے تھے۔ مفتی یوسف طیبی حفظہ اللہ جنہوں نے جامعہ الدراسات الاسلامیہ میں جماعۃ الدعوۃ کے فکری ذخیرہ کی مدد سے درس نظامی کو دنیاوی فنون کے ساتھ متعارف کرایا کہ درس نظامی کے فارغ التحصیل عالم کو دنیاوی فنون کے بارے میں بنیادی علمی تشنگی اور محرومیت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، اپنے درس سے فارغ ہوکر بھائیوں میں گھل مل گئے ۔ اس دوران گفتگو میں ان کے درس کے حوالے سے بھائیوں نے اپنے اشکالات کو دور کیا۔ ان اشکالات میں سب سے اہم مسئلہ جو زیر بحث آیا وہ فارغ التحصیل علماء کرام کا دعوتی میدان میں حقیقی عملی کردار کے نہ ہونے کا آیا کہ ہمارے علماء کرام علمی فراغت کے بعد منبر و مدرسہ تک محدود ہونے پر اکتفا کرتے ہیں حالانکہ ان کو میدان عمل میں اترکر اپنا تنظیمی و تعمیری کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ ہمارا معاشرہ و ملک قیادت کے قحط سے دوچار ہے اور جو لوگ اس وقت قیادت پر براجمان ہیں وہ دین و دنیا دونوں سے عاری ہیں۔ اس کی تشنگی کو دور کرتے ہوئے مفتی صاحب نے جماعۃ الدعوۃ کے تخصیصی نصاب کا ذکر کیا جس کے تحت طالب علم کو دینی و عصری علوم و فنون کے ساتھ ساتھ اس کی قائدانہ صلاحیت کو بھی اجاگر کیا جائیگا تاکہ ہمارا معاشرہ قحط الرجال سے جس دور سے گذر رہا ہے اس گھٹا ٹوپ دور میں اللہ ہمیں پربصیرت قیادت عطا فرمائے۔ یہ تمام باتیں میرے لئے ایک منصوبہ تک ہی محدود لگ رہی تھیں ۔ اس کے نتائج کب اور کس صورت میں آتے ہیں ایک امید تھی۔ لیکن اب جب میں اس نوجوان کے خطبہ جمعہ کا سامع تھا اور جو اس تخصیصی نصاب کا حصہ بھی رہا تھا جس کی خطابت ایک روایتی خطیب سے ہٹ کر تھی۔ لگ نہی رہا تھا کہ ایک نوجوان معاشرے کے عمر رسیدہ تجربہ کار خاندانی معززین سے مخاطب ہے اور وہ ان کی گذرجانے والی زندگی پر جراحیت کررہا ہے۔ اللہ اکبر ۔ موضوع اور خطابت پر گرفت اور اس پر اس کی تبسم ۔ میں مزید اس پر کچھ کہنا یا لکھنا نہی چاہتا بس دل سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی کہ یا الحمید تو نے جو اپنے بندے پر الوہیت کا جو احسان کیا ہے اس کو اس پر ثابت قدم فرمانا تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے پرتبسم رہے۔ اللہ جماعۃ الدعوۃ کی قیادت اور فکری ذخیرہ کو بھی اپنے دین کی خدمت کرنے اور دین اسلام کو پرعزم و بالغ قیادت فراہم کرنے کا بھرپور موقع عنایت فرمائے اور اپنے دین کی سربلندی کا علم اس ہاتھوں میں تا قیامت قائم و دائم رکھے۔