Tuesday, 15 September 2015

اندرونی گھس بیٹھیا

                                      اندرونی گھس بیٹھیا 

وہ اردو کا ایک عظیم افسانہ نگار تھا فحش نگار نہی تھا لیکن میں اپنے بچوں کو اس کے ناول پڑھنے کا مشورہ نہی دے سکتا۔ کیوں کہ میری حیا ہی اس کے سرورق اور ناولوں کے ناموں کو برداشت نہی کرپائی تو اس کا معالعہ نہ جانے میرے خیالات اور سوچ کیا جلا بخشتا۔ وہ صرف شراب نوشی کی علت میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے اس کی دیگر خوبیوں کو نظرانداز  کیا گیا۔ شراب ام الخبائث اور پھر اس کو پی کر انسان خوبیوں میں مبتلا ہو یہ تو مذاق ہے۔ جب خالق کائنات نے شراب کو انسان کے لئے مضر قرار دے دیا اور اور اس کے مستعمل کے متعلق نہ جانے کیا کچھ نازل ہوگیا تو اس کے متعلق یہ کہا جائے کہ اس کی خوبیوں کو شراب نوشی کے گناہ میں دبا دیا گیا یہ نا اںصافی ہے۔ جو کچھ اس نے لکھا اس کو فحش نگاری نہی بلکہ ہمارے معاشرے کا حقیقی عکس قرار دیا گیا۔ شراب پی کر تو ہمارا معاشرہ ایسا ہی نظر آئے گا جو اس حالت میں انسان سے سرزد ہوجاتا ہے اس کو معاشرے کا عکس قرار دینا معاشرے کے ساتھ زیادتی ہے یا لکھنے والے کے ساتھ کہ اس کو " نشان امتیاز " سے نواز دیا جائے۔ لیکن کیا میرے معاشرے کا عکاس صرف یہی تھا اور یہی کچھ میرے معاشرے کا حقیقی عکس تھا۔ اور اس کا صرف عکس بندی تھا یا اس کی اصلاح بھی۔ تو اصلاح کے حوالہ سے اس نے کیا کیا۔ ہمار معاشرہ تو پہلے سے ہی کھوکھلا تھا تہذیب سے عاری ایک ایسا معاشرہ جس کو بے دینی کی ڈگر پر گامزن کردیا ہو۔ دین سے بری کرکے انسانیت کا سبق سکھانے والوں کے پاس انسانیت کی تربیت کا حقیقی مینوئیل نہی تھا بلکہ لذت بھری زندگی کو انہوں نے حق قرار دے دیا۔ خالق کی حقیقی ہدایت کو نہ صرف یکسر نظرانداز کردیا بلکہ اسے پرانی سوچ قرار دیا گیا۔ تبھی تو شراب پی کر بہکنا اور پھر اس بہکنے کے بعد جو کچھ ہونا وہ معاشرے کا عکس ہی ہوسکتا ہے فحش نگاری نہی ۔ اور کونسا ایسا معاشرہ ہے جو اس سے پاک ہے لیکن کیا ان کو اس تقدس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ " فینٹم " پہلی فلم  نہی تھی جس میں گھس بیٹھئے کا تصور اور پاکستان کی ملی حمیت پر حملہ کیا گیا تھا اور ہماری ملی غیرت کو للکارا گیا ہو۔ کچھ سال پہلے " ڈی ڈے " نامی فلم بھی اسی تصور پر بنی تھی لیکن اس وقت میں اور ابھی کے وقت میں فرق ہے ۔ آج اللہ رب العزت نے ہمیں اس قدر مضبوط کردیا ہے کہ ہم نہ صرف بیرون سے گھس بیٹھئے روک سکتے ہیں بلکہ 1965 کی طرح دشمن کی گھس بیٹھ کا جواب بھی اسی انداز سے دے سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے اندر جو اغیار نے گھس بیٹھئے پیدا کردیئے ہیں اس " منٹو " کو کون روکے گا۔ " ڈی ڈے " کو نہ روکنے والوں نے باالآخر " فینٹم " کو رکواکر پاکستانی قوم کو ذہنی پسماندگی اور اذیت سے بچایا۔ لیکن " منٹو " جیسی اپنے گھر کی پیداوار کو کون روکے گا۔ جس میں ایک فحش نگار اور شرابی کو صرف " نشان امتیاز " دینے پر قوم کے باادب ہونے کا عکس کھینچا گیا۔
اٹھئے یا تو اپنی فیملی کے ساتھ اس فلم کو دیکھئے یا پھر اس کو روکئے ۔ 
راشد شیخ
16ستمبر 2015

Sunday, 6 September 2015

اصل یوم دفاع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔6 ستمبر 2015

اصل یوم دفاع ۔۔۔۔۔۔۔ 6 ستمبر 2015
آج مجھ سمیت محب وطن پاکستانیوں نے یوم دفاع انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا شکر ہے سوشل میڈیا وجود میں آگیا ورنہ نہ جانے ان لامحدود اور غیرضبط شدہ جذبات کا کیا ہوتا کہاں نکلتے ۔ 1965 میں تو ہم اپنے دفاع میں اتنے آگے نکل گئے کہ گھس بیٹھیئے بن گئے۔ اس گھس بیٹھی حرکت نے ہمارے جدی دشمن کو اپنی چال تبدیل کرنے کا عندیہ دیا کہ جسے تو تر نوالہ سمجھ بیٹھا ہے وہ کڑوے پانی سےترہے ذرا دیکھ بھال کر۔ اس ٹھوکر نے ہمارے دشمن کے آنکھ تو کھول دی لیکن ہماری آنکھ بند کردی۔ اور صرف 6 سال گذرنے کے بعد لاہور جیمخانہ میں جام پینے کا ناکام خواہش مند ہماری آدھی سرزمین پر قابض ہوگیا۔ اور وہ دو قومی نظریہ جس کی حفاظت و بقاء کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنے زندگی کو داؤ پرلگادیا تھا اس نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا دعوی کیا گیا۔ ابھی کچھ سال قبل ہی کی بات تھی جب قبلہ اول کے مقبوضہ ہونے کے غم میں ڈوبی تاریک مسجد نبوی میں آہوں سسکیوں سے لبریز فلسطینی پاکستان کی حفاظت کی دعائیں کررہا تھا اس امید پر کہ مقبوضہ قبلہ اول و فلسطین کے مددگار اسی سرزمیں سے اٹھیں گے۔ لیکن یہ کیا ہوا۔ اب تو یہ خود قابل مدد و مظلومیت کی کہانی بن چکا تھا۔ لیکن الحمداللہ اللہ رب العزت نے اپنے کلمہ کی بنیاد پر تشکیل پانے والے اس خطہ کی قوم کو ایک سخت امتحان کے کھڑا ہونے کی صلاحیت سے نوازا ۔ سقوط بنگال کے نتیجہ میں پاکستان کو تر نوالہ سمجھنے والی نام و نہاد عالمی طاقتوں نے سراٹھانا شروع کیا اور سرخ ریچھ جو اس وقت بے لگام تھا نے اپنا رخ اس کی طرف کیا۔ جبکہ انکل سام نے بھی دشمن کے دشمن کو دوست بنانے کے لئے ہماری مدد کا ٹھیکہ اٹھایا۔ اس مدد کا خفیہ مقصد بھی وہی تھا جو سرخ ریچھ کی پیش قدمی کا تھا۔لیکن اللہ رب العزت کو اس مدینہ ثانی کو نہ صرف بچانا تھا بلکہ عزت سے بھی نوازنا تھا ۔ سرخ ریچھ کی شکست کے بعد جب فتح کا جھنڈا اسلام اور مدینہ ثانی کے کاندھوں پرلہرانے لگا اور وجہ جہاد فی سبیل اللہ بنی تو نام و نہاد لوگوں کے کان کھڑے ہونے شروع ہوگئے۔ اس فہرست میں سب سے آگے انکل سام تھا۔جسکو اس جہاد میں جہاں غیر معمولی کامیابی پر اپنا عالمی تخت سجتا دکھائی دے رہا تھا تو دوسری طرف جذبہ جہاد سے مزین مسلمان اس کی عالمی حکمرانی کے  لئے خطرہ بنتے نظر آنے لگے۔ واشنگٹن میں بیٹھے ہمہ وقت بیدارمغز پاکستان کو مسلسل اپنے لئے ہی نہی بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرہ قرار دے رہے تھے۔ اور وجود پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کا جال بن رہے تھے۔ ایک عالمی طاقت کو شکست دینے کے بعد نئی طاقت کو مدمقابل آتا محسوس کرکے مدینہ ثانی کے سرکاری و غیرسرکاری محافظین نے بھی متحد اور طاقت کو جمع کرنا شروع کردیا۔ پھر وہی ہوا ایک نہی تمام عالمی طاقتوں کے اتحاد نے بلاواسطہ طور پر پاکستان پر حملہ کردیا۔ ایک مرتبہ پھر ملک پاکستان مدینہ ثانی نے اپنے پڑوس میں اپنے وجود کی جنگ غیر محسوس انداز میں لڑنا شروع کردی۔ جو الحمد للہ فتح سے ہمکنار ہوئی ۔ اس عرصہ میں جہاں پاکستان پر بیرونی حملہ ہوئے اور سرحدوں کے پار نہ صرف ملکی افرادی قوت نے اپنی جانیں نچھاور کیں بلکہ دیگر مسلم ممالک نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لیا۔ وہیں پر اندرونی خلفشاریت نے بھی جنم لیا جس پیچھے ان ہی قوتوں کے ہاتھ تھے جو سرحدوں پر برسرپیکار تھے۔ سیاسی مذہبی معاشرتی و معاشی انتشار کا ایک طوفان تھا جو تھمنے کو نہی آرہا تھا۔ یہ انتشار کمی کے بجائے بڑھتا ہی جارہا تھا۔ پراثرسیاسی اور مذہبی طاقتیں بھی اصلاحی اور سدھار کی کوششوں میں ناکامی سے دوچار تھی۔ دو عالمی طاقتوں کی شکست سے سبق نہ لینے والے ہمارے جدی دشمن نے بھی سرحدوں پرخاموشی کے سکوت کو توڑاہواتھا اور پاکستان کو ابھی تک تر نوالہ سمجھا ہوا تھا۔ وہ اپنی ہر ناکامی کے پیچھے پاکستان کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔اورایک مرتبہ گھس بیٹھیا بننے کے لئے پر تول رہا ہے۔ لیکن الحمد اللہ محافظین ملک و ملت نے بقائے پاکستان کو ہی اپنی بقاء کا سامان بنایا ہوا ہے اور نہ صرف بیرونی محاذوں پر بلکہ اندرونی محاذوں پر بھی دشمنوں اور ان کے مدد گاروں پر بجلی بن کر ٹوٹے ہوئے ہیں ۔ آج 50 سال کے بعد پاکستانی قوم ایک مرتبہ پھر آزادی کی سوندھی خوشبو سے معطر ہے۔ باہمی ناراضگیوں کے سورج غروب ہورہے ہیں ۔ وطن کو غیر محفوظ قرار دینے والے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔آج واقعی یہ محسوس ہورہا ہے کہ میرا ملک پوری دنیا میں میرے لئے محفوظ ترین پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اس کے نہ صرف بیرونی بلکہ اندونی گھس بیٹھیے اب اپنی قبریں خود کھودتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ظاہری طور پر دو عالمی طاقتوں اور درپردہ طور پر تمم عالمی جگوں کو شکست دینے کے بعد ایک مرتبہ پھر 1965 کی طرح کے پاکستان نے جنم لے لیا ہے اب اگر کسی کم نسل نے میرے وطن کی طرف کی میلی آنکھ اٹھانے کی کوشش کی تو شاید اس کو معذرت کا موقع نہی ملے گا۔
پاکستان زندہ باد۔

راشد شیخ
 ستمبر 6 ،  2015

Friday, 4 September 2015

حقیقی مظلوم



کس کس پوسٹ کو شیئر کروں اور کس کس کو نہ کروں ۔ یہاں تو قطار اندر قطار ظلم و بربریت کی داستانیں ہیں ۔ کبھی میرے اپنے ملک کی داستان سامنے آتی ہے تو کبھی بیرون کی۔ کبھی انفرادی تو کبھی اجتماعی ۔ کبھی معاشرتی تو کبھی معاشی۔ کہیں ظالموں کی فہرست میں مقتدر ہیں تو کہیں عوام ۔ کہیں طلم کا شکنجہ سیاسی ہے تو کہیں مذہبی۔ غرض اس عالم دنیا میں ہر طرف ظلم کی داستانیں ہیں جو وقتا فوقتا اس دنیا کے باسیوں کو بیان کی جاتی ہیں ۔ تصاویر کا ایک ذخیرہ جس کو میڈیا نے اپنا منجن یا چورن بنایا ہوا ہے ۔ کبھی بھوکے ننگے انسان دکھائے جاتے ہیں تو کبھی کٹی پھٹی لاشیں ۔ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پیپر میڈیا یا ہو سوشل میڈیا ہر وقت اور ہر لمحہ کمنٹس اور شیئرنگ کا دور دوراں ہے ۔ بحث کے لئے عالمی اذہان کی قطار لگی ہوئی ہے ۔ میں اور مجھ جیسے نہ جانے کتنے صرف اپ اور ڈاؤن کی کیز کو دباتے ہیں اور افسردہ لہجے میں استغفراللہ یا شٹ کے الفاظ ادا کرکے آگے نکل جاتے ہیں یا پھر ہمدردی کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے شیئر یا کمنٹس کردیتے ہیں۔ یہ سلسلہ نہ جانے کب سے بلا تعطل چل رہا ہے۔ کچھ سمجھ نہی آرہا کہ حقیقی ظالم کون ہے کس قوم یا مذہب سے اس کا تعلق ہے ؟ لیکن اس تمام بھیڑ اور شور و غل میں صرف ایک بات ہے جو سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہیکہ مظلوم کون ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو یا کسی بھی قوم سے بس مظلو ایک ہے۔
مسلمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راشدشیخ
9 ستمبر 2015

Saturday, 22 August 2015

قیادت کی تیاری

خطبہ جمعہ انتہائی جوشیلے انداز میں دینے والے اس نوجوان کو نکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھے ابھی 24 گھنٹے بھی نہی گذرے تھے۔ وہ منبر رسول پر کھڑا انتہائی بالغانہ انداز میں موضوع پر گرفت رکھتے ہوئے جوشیلے لہجے میں سامعین کو جھنجھوڑ رہا تھا۔ اس کا خطاب سنتے ہوئے میں گذشتہ شب کے اول حصہ میں کھو گیا جب اسی منبر پر اسی نوجوان کے نکاح خواں نمازیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قحط الرجال کا ذکر کررہے تھے اور دین کی خدمت کے لئے علماء کی قلت پر ایک حقیقی علم کے حصول اور اس کے افراد تیار کرنے والوں کو رسول اللہ کی طرف سے دی جانے والی خوشخبریاں سنارہے تھے۔ مفتی یوسف طیبی حفظہ اللہ جنہوں نے جامعہ الدراسات الاسلامیہ میں جماعۃ الدعوۃ کے فکری ذخیرہ کی مدد سے درس نظامی کو دنیاوی فنون کے ساتھ متعارف کرایا کہ درس نظامی کے فارغ التحصیل عالم کو دنیاوی فنون کے بارے میں بنیادی علمی تشنگی اور محرومیت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، اپنے درس سے فارغ ہوکر بھائیوں میں گھل مل گئے ۔ اس دوران گفتگو میں ان کے درس کے حوالے سے بھائیوں نے اپنے اشکالات کو دور کیا۔ ان اشکالات میں سب سے اہم مسئلہ جو زیر بحث آیا وہ فارغ التحصیل علماء کرام کا دعوتی میدان میں حقیقی عملی کردار کے نہ ہونے کا آیا کہ ہمارے علماء کرام علمی فراغت کے بعد منبر و مدرسہ تک محدود ہونے پر اکتفا کرتے ہیں حالانکہ ان کو میدان عمل میں اترکر اپنا تنظیمی و تعمیری کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ ہمارا معاشرہ و ملک قیادت کے قحط سے دوچار ہے اور جو لوگ اس وقت قیادت پر براجمان ہیں وہ دین و دنیا دونوں سے عاری ہیں۔ اس کی تشنگی کو دور کرتے ہوئے مفتی صاحب نے جماعۃ الدعوۃ کے تخصیصی نصاب کا ذکر کیا جس کے تحت طالب علم کو دینی و عصری علوم و فنون کے ساتھ ساتھ اس کی قائدانہ صلاحیت کو بھی اجاگر کیا جائیگا تاکہ ہمارا معاشرہ قحط الرجال سے جس دور سے گذر رہا ہے اس گھٹا ٹوپ دور میں اللہ ہمیں پربصیرت قیادت عطا فرمائے۔ یہ تمام باتیں میرے لئے ایک منصوبہ تک ہی محدود لگ رہی تھیں ۔ اس کے نتائج کب اور کس صورت میں آتے ہیں ایک امید تھی۔ لیکن اب جب میں اس نوجوان کے خطبہ جمعہ کا سامع تھا اور جو اس تخصیصی نصاب کا حصہ بھی رہا تھا جس کی خطابت ایک روایتی خطیب سے ہٹ کر تھی۔ لگ نہی رہا تھا کہ ایک نوجوان معاشرے کے عمر رسیدہ تجربہ کار خاندانی معززین سے مخاطب ہے اور وہ ان کی گذرجانے والی زندگی پر جراحیت کررہا ہے۔ اللہ اکبر ۔ موضوع اور خطابت پر گرفت اور اس پر اس کی تبسم ۔ میں مزید اس پر کچھ کہنا یا لکھنا نہی چاہتا بس دل سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی کہ یا الحمید تو نے جو اپنے بندے پر الوہیت کا جو احسان کیا ہے اس کو اس پر ثابت قدم فرمانا تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے پرتبسم رہے۔ اللہ جماعۃ الدعوۃ کی قیادت اور فکری ذخیرہ کو بھی اپنے دین کی خدمت کرنے اور دین اسلام کو پرعزم و بالغ قیادت فراہم کرنے کا بھرپور موقع عنایت فرمائے اور اپنے دین کی سربلندی کا علم اس ہاتھوں میں تا قیامت قائم و دائم رکھے۔

Saturday, 14 February 2015

بے غیرت زندگی

نہ جانے کس بد بخت نے دنیا پر یہ جھوٹ منکشف کردیا کہ میں ویلنٹائن ڈے سے مستفید ہونے کی خواہش رکھتا ہوں۔ اسی لئے سحر سے ہی سے مختصر اور برقی پیغامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع تھا۔ اذان فجر کو مجھے اٹھانے کی تگ و دو نہی کرنی پڑی ۔ موبائل فون کی الرٹ ٹون مجھے نیند سے رشتہ توڑنے پر مجبور کئے ہوئے تھی۔ان باکس کے ضبط کا بندھن تو کبھی کا ٹوٹ چکا تھا اب اسپیکر کے ضبط کا امتحان جاری تھا۔ہرطرف سے ویلنٹائن ڈے کی حرمت بیان کی جارہی تھی۔میں پریشان تھا کہ بھائی کیا میں اکیلا ہی بچا ہوں اس دنیا میں اس حرمت کو سمجھنے والا یا پوری دنیا کے موبائل فونز میرے نمبر پر ڈائیورٹ کردئے گئے ہیں۔ بہرحال مذکورہ تہوار منانے کی خواہش سے آزاد میرے وہم و گمان کے کسی کونے میں موجود شیطان نے انگڑائی لی اور خواہش نفسانی کے تاروں پر تجسس کی دھن چھیڑتے ہوئے میرے کانوں میں سرگوشی کی کہ دیکھتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے میں کیا لطف ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ شیطان نے مجھ پر پیشہ ورانہ وار کرتے ہوئے ایک اچھی کہانی اور آرٹیکل دکھایا ۔ نئی کہانی دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ یہ تہوار منانا چاہیئے۔لیکن مناؤں کیسے ؟ شیطان جو مجھے اس گناہ میں آلودہ کرنے کا ارادہ کرچکا تھا ایک دم پھر سرگوش ہوا کہ دنیا کی معلومات سے انڑنیٹ کے ذریعہ مربوط اینڈرائیڈ موبائل کس کام آئیگا اور گوگل ہے تو پھر کسی کی شاگردی کا احسان کیوں ؟ پھر تو سیکنڈوں اور منٹوں میں وہ کچھ میرے سامنے تھا کہ وہ آپ کو بتانے کی ضرورت نہی۔ اب ناشتہ کی فراغت تک اور ویلنٹائن ڈے کی شروعات سے پہلے گوگل مجھے اس حد تک تیار کرچکا تھا میں ویلنٹائن ڈے منانے پر پوری ملٹی میڈیا بریفینگ دے سکتا تھا۔ سیکھنے کے اس عمل میں جہا ں شیطان نے میری نفسانی خواہش کو لذت کی بھوک میں مبتلا کردیا تھا وہیں اس نے میرے پیشہ کو نئی کہانی کی تلاش میں استعمال کرکے میرے ارادے پختہ کردئے۔لیکن شروعات کیسے کروں ؟ کس خاتون کو میں اپنی خواہش نفسانی اور کہانی کی ہیروئن بناؤں؟اب ایک طرف ہم غیرت کے چیمپیئن اور دینی حمیت سے مالا مال تھے تو دوسری طرف ہماری کہانی اور دل میں چھپا لذت کا چور۔سمجھ نہی آرہا تھا کہ اس گناہ کو کیسے گلے لگایا جائے۔ایک طرف دوستوں میں تقسیم ہونے والی خواتین کی تصاویر اور موبائل نمبرز میرے لئے بہت آسانی سے اس گناہ کا پہلا زینہ بننے کو تیار تھے تو دوسری طرف غیرت و حمیت کا بوجھ قدموں سے لپٹا رکاوٹ۔ میں نے سوچاچلو کچھ لمحات کی تو بات ہے توبہ تائب کا سلسلہ تو ساری زندگی چلتا رہیگا۔کچھ لمحات اگر کسی خاتون کے ساتھ گذارلئے تو کیا ہوا کون سے مساجد کو تالے لگ گئے ۔ جہاں میں اپنے آپ کو اس گناہ سے لتھڑنے کے لئے تیار کررہا تھا وہیں میرے دل کے کسی کونے میں موجود میری غیرت ایمانی اپنے کمزور ہاتھوں سے میرے دامن کو کھینچ رہی تھی اور کچھ کہ رہی تھی لیکن میں شایدحس صحافت کی مٹھاس میں شامل لذت نفس کی ترنم آواز سے بہرہ ہوچکا تھا جس کے علاوہ مجھے کچھ سنائی اور سمجھائی نہی دے رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا 
کہ جس تہوار کی پرچار سے میرے ملک سمیت پوری دنیا کے شرفاء نے اپنے دن کا آغاز کیا ہے اور جس عمل کی پرچار کے لئے رسائل اور جرائد نے خصوصی ضمیمہ جات شایع کئے ہوں ا س میں برائی کو نسا پہلو ہے۔ اور یہی نہی بلکہ ا س سے بڑھ کر الیکٹرانک میڈیا پر فوری طور پر نفوذ کرنے والی تربیت اور آگاہی کا موضوع بھی یہی ویلنٹائن ڈے ہی تھا۔اسی کشمکش میں مجھے بے یار و مدد گار دیکھ کر میری غیرت ایمانی کو جوش آیا اور مجھ سے جدا ہوکر میرے مقابل آکھڑی ہو ئی اور ایک پرجوش مقرر کے انداز میں مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگی کہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ قلم کی نوک سے لوگوں کو انوکھی کہانیاں منتقل کرنے والے صحافی جا جاکر تو بھی پچھلوں کی طرح ا س تہوار سے مستفید ہوکر کسی نئی کہانی کو تخلیق کرلیکن ایک بات کا خیال کرنا کہ اس تہوار کو منانے کی غرض سے جن فون نمبرز اور پیغامات کا تبادلہ کرو توان پر نظر کرلینا۔ کہیں ان سے تیرا خونی رشتہ نہ نکل آئے۔اور سنو جس خواہش کے ہاتھوں تم مجبور ہوکر بازار میں دوسروں کے حرم کا خریداربننے جارہے ہوایسا نہ ہوکہ اسی خواہش کے پیش نظر تمہارا حرم بھی بکنے کے لئے وہاں موجود ہو۔یہ کہتے ہوئے میری غیرت نے ہاتھ جوڑے اور آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یاد رکھنا پھر وہ کہانی تخلیق پائے گی جس کے خریدار تو بہت ہونگے لیکن تم اس کہانی کو بیچنے کے بجائے بھوکا رہنے کو ترجیح دوگے اور جس گھر کے توشہ کے لئے کہانی بنانے چلے ہو اس میں واپسی مشکل ہوجائے گی۔ان الفاظ نے میرے دل و دماغ سمیت پورے جسم کو جکڑ لیا۔میں جامد کھڑا سوچ رہا تھا کہ واقعی کہانیاں تو موجودہیں جن کو میں نے اس تہوار کو منانے کے حوالہ سے پڑھا ہے ۔ لیکن اگر نہی ہے تو اس کا سدباب اور مردہ غیرت کو طاقت مہیا کرنے وا لی غذا موجود نہی ہے۔ اچانک میرے قدموں نے بڑھنا شروع کیا لیکن کسی اور طرف نہی بلکہ روٹھ کر جانے والی غیرت کی طرف کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا جسم بے غیرت زندگی کی وجہ سے ہم پر بوجھ نہ بن جائے۔