اندرونی گھس بیٹھیا
وہ اردو کا ایک عظیم افسانہ نگار تھا فحش نگار نہی تھا لیکن میں اپنے بچوں کو اس کے ناول پڑھنے کا مشورہ نہی دے سکتا۔ کیوں کہ میری حیا ہی اس کے سرورق اور ناولوں کے ناموں کو برداشت نہی کرپائی تو اس کا معالعہ نہ جانے میرے خیالات اور سوچ کیا جلا بخشتا۔ وہ صرف شراب نوشی کی علت میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے اس کی دیگر خوبیوں کو نظرانداز کیا گیا۔ شراب ام الخبائث اور پھر اس کو پی کر انسان خوبیوں میں مبتلا ہو یہ تو مذاق ہے۔ جب خالق کائنات نے شراب کو انسان کے لئے مضر قرار دے دیا اور اور اس کے مستعمل کے متعلق نہ جانے کیا کچھ نازل ہوگیا تو اس کے متعلق یہ کہا جائے کہ اس کی خوبیوں کو شراب نوشی کے گناہ میں دبا دیا گیا یہ نا اںصافی ہے۔ جو کچھ اس نے لکھا اس کو فحش نگاری نہی بلکہ ہمارے معاشرے کا حقیقی عکس قرار دیا گیا۔ شراب پی کر تو ہمارا معاشرہ ایسا ہی نظر آئے گا جو اس حالت میں انسان سے سرزد ہوجاتا ہے اس کو معاشرے کا عکس قرار دینا معاشرے کے ساتھ زیادتی ہے یا لکھنے والے کے ساتھ کہ اس کو " نشان امتیاز " سے نواز دیا جائے۔ لیکن کیا میرے معاشرے کا عکاس صرف یہی تھا اور یہی کچھ میرے معاشرے کا حقیقی عکس تھا۔ اور اس کا صرف عکس بندی تھا یا اس کی اصلاح بھی۔ تو اصلاح کے حوالہ سے اس نے کیا کیا۔ ہمار معاشرہ تو پہلے سے ہی کھوکھلا تھا تہذیب سے عاری ایک ایسا معاشرہ جس کو بے دینی کی ڈگر پر گامزن کردیا ہو۔ دین سے بری کرکے انسانیت کا سبق سکھانے والوں کے پاس انسانیت کی تربیت کا حقیقی مینوئیل نہی تھا بلکہ لذت بھری زندگی کو انہوں نے حق قرار دے دیا۔ خالق کی حقیقی ہدایت کو نہ صرف یکسر نظرانداز کردیا بلکہ اسے پرانی سوچ قرار دیا گیا۔ تبھی تو شراب پی کر بہکنا اور پھر اس بہکنے کے بعد جو کچھ ہونا وہ معاشرے کا عکس ہی ہوسکتا ہے فحش نگاری نہی ۔ اور کونسا ایسا معاشرہ ہے جو اس سے پاک ہے لیکن کیا ان کو اس تقدس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ " فینٹم " پہلی فلم نہی تھی جس میں گھس بیٹھئے کا تصور اور پاکستان کی ملی حمیت پر حملہ کیا گیا تھا اور ہماری ملی غیرت کو للکارا گیا ہو۔ کچھ سال پہلے " ڈی ڈے " نامی فلم بھی اسی تصور پر بنی تھی لیکن اس وقت میں اور ابھی کے وقت میں فرق ہے ۔ آج اللہ رب العزت نے ہمیں اس قدر مضبوط کردیا ہے کہ ہم نہ صرف بیرون سے گھس بیٹھئے روک سکتے ہیں بلکہ 1965 کی طرح دشمن کی گھس بیٹھ کا جواب بھی اسی انداز سے دے سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے اندر جو اغیار نے گھس بیٹھئے پیدا کردیئے ہیں اس " منٹو " کو کون روکے گا۔ " ڈی ڈے " کو نہ روکنے والوں نے باالآخر " فینٹم " کو رکواکر پاکستانی قوم کو ذہنی پسماندگی اور اذیت سے بچایا۔ لیکن " منٹو " جیسی اپنے گھر کی پیداوار کو کون روکے گا۔ جس میں ایک فحش نگار اور شرابی کو صرف " نشان امتیاز " دینے پر قوم کے باادب ہونے کا عکس کھینچا گیا۔
اٹھئے یا تو اپنی فیملی کے ساتھ اس فلم کو دیکھئے یا پھر اس کو روکئے ۔
راشد شیخ
16ستمبر 2015
16ستمبر 2015