نہ جانے کس بد بخت نے دنیا پر یہ جھوٹ منکشف کردیا کہ میں ویلنٹائن ڈے سے مستفید ہونے کی خواہش رکھتا ہوں۔ اسی لئے سحر سے ہی سے مختصر اور برقی پیغامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع تھا۔ اذان فجر کو مجھے اٹھانے کی تگ و دو نہی کرنی پڑی ۔ موبائل فون کی الرٹ ٹون مجھے نیند سے رشتہ توڑنے پر مجبور کئے ہوئے تھی۔ان باکس کے ضبط کا بندھن تو کبھی کا ٹوٹ چکا تھا اب اسپیکر کے ضبط کا امتحان جاری تھا۔ہرطرف سے ویلنٹائن ڈے کی حرمت بیان کی جارہی تھی۔میں پریشان تھا کہ بھائی کیا میں اکیلا ہی بچا ہوں اس دنیا میں اس حرمت کو سمجھنے والا یا پوری دنیا کے موبائل فونز میرے نمبر پر ڈائیورٹ کردئے گئے ہیں۔ بہرحال مذکورہ تہوار منانے کی خواہش سے آزاد میرے وہم و گمان کے کسی کونے میں موجود شیطان نے انگڑائی لی اور خواہش نفسانی کے تاروں پر تجسس کی دھن چھیڑتے ہوئے میرے کانوں میں سرگوشی کی کہ دیکھتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے میں کیا لطف ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ شیطان نے مجھ پر پیشہ ورانہ وار کرتے ہوئے ایک اچھی کہانی اور آرٹیکل دکھایا ۔ نئی کہانی دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ یہ تہوار منانا چاہیئے۔لیکن مناؤں کیسے ؟ شیطان جو مجھے اس گناہ میں آلودہ کرنے کا ارادہ کرچکا تھا ایک دم پھر سرگوش ہوا کہ دنیا کی معلومات سے انڑنیٹ کے ذریعہ مربوط اینڈرائیڈ موبائل کس کام آئیگا اور گوگل ہے تو پھر کسی کی شاگردی کا احسان کیوں ؟ پھر تو سیکنڈوں اور منٹوں میں وہ کچھ میرے سامنے تھا کہ وہ آپ کو بتانے کی ضرورت نہی۔ اب ناشتہ کی فراغت تک اور ویلنٹائن ڈے کی شروعات سے پہلے گوگل مجھے اس حد تک تیار کرچکا تھا میں ویلنٹائن ڈے منانے پر پوری ملٹی میڈیا بریفینگ دے سکتا تھا۔ سیکھنے کے اس عمل میں جہا ں شیطان نے میری نفسانی خواہش کو لذت کی بھوک میں مبتلا کردیا تھا وہیں اس نے میرے پیشہ کو نئی کہانی کی تلاش میں استعمال کرکے میرے ارادے پختہ کردئے۔لیکن شروعات کیسے کروں ؟ کس خاتون کو میں اپنی خواہش نفسانی اور کہانی کی ہیروئن بناؤں؟اب ایک طرف ہم غیرت کے چیمپیئن اور دینی حمیت سے مالا مال تھے تو دوسری طرف ہماری کہانی اور دل میں چھپا لذت کا چور۔سمجھ نہی آرہا تھا کہ اس گناہ کو کیسے گلے لگایا جائے۔ایک طرف دوستوں میں تقسیم ہونے والی خواتین کی تصاویر اور موبائل نمبرز میرے لئے بہت آسانی سے اس گناہ کا پہلا زینہ بننے کو تیار تھے تو دوسری طرف غیرت و حمیت کا بوجھ قدموں سے لپٹا رکاوٹ۔ میں نے سوچاچلو کچھ لمحات کی تو بات ہے توبہ تائب کا سلسلہ تو ساری زندگی چلتا رہیگا۔کچھ لمحات اگر کسی خاتون کے ساتھ گذارلئے تو کیا ہوا کون سے مساجد کو تالے لگ گئے ۔ جہاں میں اپنے آپ کو اس گناہ سے لتھڑنے کے لئے تیار کررہا تھا وہیں میرے دل کے کسی کونے میں موجود میری غیرت ایمانی اپنے کمزور ہاتھوں سے میرے دامن کو کھینچ رہی تھی اور کچھ کہ رہی تھی لیکن میں شایدحس صحافت کی مٹھاس میں شامل لذت نفس کی ترنم آواز سے بہرہ ہوچکا تھا جس کے علاوہ مجھے کچھ سنائی اور سمجھائی نہی دے رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا
کہ جس تہوار کی پرچار سے میرے ملک سمیت پوری دنیا کے شرفاء نے اپنے دن کا آغاز کیا ہے اور جس عمل کی پرچار کے لئے رسائل اور جرائد نے خصوصی ضمیمہ جات شایع کئے ہوں ا س میں برائی کو نسا پہلو ہے۔ اور یہی نہی بلکہ ا س سے بڑھ کر الیکٹرانک میڈیا پر فوری طور پر نفوذ کرنے والی تربیت اور آگاہی کا موضوع بھی یہی ویلنٹائن ڈے ہی تھا۔اسی کشمکش میں مجھے بے یار و مدد گار دیکھ کر میری غیرت ایمانی کو جوش آیا اور مجھ سے جدا ہوکر میرے مقابل آکھڑی ہو ئی اور ایک پرجوش مقرر کے انداز میں مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگی کہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ قلم کی نوک سے لوگوں کو انوکھی کہانیاں منتقل کرنے والے صحافی جا جاکر تو بھی پچھلوں کی طرح ا س تہوار سے مستفید ہوکر کسی نئی کہانی کو تخلیق کرلیکن ایک بات کا خیال کرنا کہ اس تہوار کو منانے کی غرض سے جن فون نمبرز اور پیغامات کا تبادلہ کرو توان پر نظر کرلینا۔ کہیں ان سے تیرا خونی رشتہ نہ نکل آئے۔اور سنو جس خواہش کے ہاتھوں تم مجبور ہوکر بازار میں دوسروں کے حرم کا خریداربننے جارہے ہوایسا نہ ہوکہ اسی خواہش کے پیش نظر تمہارا حرم بھی بکنے کے لئے وہاں موجود ہو۔یہ کہتے ہوئے میری غیرت نے ہاتھ جوڑے اور آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یاد رکھنا پھر وہ کہانی تخلیق پائے گی جس کے خریدار تو بہت ہونگے لیکن تم اس کہانی کو بیچنے کے بجائے بھوکا رہنے کو ترجیح دوگے اور جس گھر کے توشہ کے لئے کہانی بنانے چلے ہو اس میں واپسی مشکل ہوجائے گی۔ان الفاظ نے میرے دل و دماغ سمیت پورے جسم کو جکڑ لیا۔میں جامد کھڑا سوچ رہا تھا کہ واقعی کہانیاں تو موجودہیں جن کو میں نے اس تہوار کو منانے کے حوالہ سے پڑھا ہے ۔ لیکن اگر نہی ہے تو اس کا سدباب اور مردہ غیرت کو طاقت مہیا کرنے وا لی غذا موجود نہی ہے۔ اچانک میرے قدموں نے بڑھنا شروع کیا لیکن کسی اور طرف نہی بلکہ روٹھ کر جانے والی غیرت کی طرف کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا جسم بے غیرت زندگی کی وجہ سے ہم پر بوجھ نہ بن جائے۔
No comments:
Post a Comment