Monday, 15 January 2018

کیا اقتدار ہی میرا حق ہے ؟

کیا اقتدار صرف میرا حق ہے ۔۔۔۔ کیا میری پاکستانیت صرف میری مقتدر حالت کی محتاج ہے۔۔۔۔ کیا اقتدار کا آنا جانا سیاست کا حصہ نہی۔۔۔۔ کیا جو لوگ میری جگہ مقتدر بنے وہ سیاسی نہی۔۔۔۔۔۔ اگر میری سوچ صرف اقتدار ہے۔۔۔۔ اگر میرا حق صرف اقتدار ہے۔۔۔۔ اگر میرا منہج صرف حاکمیت ہے۔۔۔۔۔ اگر میری سوچ محکمانہ ہے۔۔۔۔ اور ملک و ریاست کی کوئی حیثیت نہیں تو جاؤ نکل جاؤ اس پاک سرزمین سے، اس کے باسیوں کو ان شاہراؤں کی کوئی ضرورت نہیں، ان کارخانوں کی کوئی ضرورت نہی، اس ترقی کی کوئی ضرورت نہیں جو لاکھوں مسلمانوں کے خون کی آبیاری سے نمو پانے والی ریاست اور اسلام کا سائبان قرار پانے ملک کو چٹخانےکا باعث بنے۔ اس سرزمین پر اقتدار کا اکھاڑا جمانے والوں یاد کرو اس وقت کو جب تم پر کلمہ کی بنیاد پر اپنی شناخت لیکر اٹھے تھے اور اپنا خون رب کے حضور پیش کرکے مدد طلب کی تھی ۔ اپنی پوری نسل کی قربانی کیا اس لئے پیش کی تھی کہ زمین کا ٹکڑا ملنے کے بعد اس کو اپنی سیاست کا کھلواز بنائیں گے۔ کیا کلمہ کے نام پر متحد ہوکر بعد میں نسلی شناخت پر حصہ داری کریں گے۔ جنہوں کیا ان کا انجام اس دھرتی نے دیکھا اور جو کریں گے ان کا انجام بھی تاریخ اپنے اوراق میں سمیٹ لیگی۔ لیکن یاد رکھو اقدار کے بھکاریوں ، محلوں کو خوابوں میں بسانے والوں سن لو میرا ملک اسلامی جوہری پاکستان ہے۔ دکھ کے ستر سال کاٹ چکا۔ اس دوران اس نے بہت کچھ سہا ۔ لیکن اب اس کے سنہری دور کا آغاز ہے جوہریت کے ساتھ اس کو الله رب العزت نے دنیائے اسلام کی رہنمائیت بھی عطا فرمادی ہے۔ رنگ و نسل کیسا ہی ہو لیکن سب اس کے مکین ہیں۔ اور اس نسبت سے مکان کو ملنے والا اعزاز مکین کا بھی ہوتا ہے۔ تو الله رب العزت کی جانب سے ملنے والے اس اعزاز پر شکر بجا لاؤ اس کی حفاظت کرو نہ کہ دوسری کوئی بات کرو۔ اور یاد رکھو اس ملک کو ان شاءاللہ اب کچھ نہی ہونے والا، میرا یقین ہے کہ اس ملک کو قیامت تک باقی رہنا ہے کیونکہ پیاری نبی کی پیشین گوئیاں غزوہِ ہند کو بھی سموئے ہوئے ہیں اور غزوہء ہند سے شروع ہونے والا سلسلہ ملک شام اور پھر قیامت کی شروعات تک پھیلا ہوا ہے۔ میرے اس یقین کو شاید مجھے ایمان کا فرجہ دینا چاہیئے۔ بہر حال میرا وطن عزیز ماضی سے حال اور مستقبل ہمیشہ سے دنیاوی سیاست میں اہم کردار کا حامل رہا ہے اور جب اس کے ساتھ یہ دینی پہلو جڑتا ہے تو پھر اہمیت دو جند ہوجاتی ہے۔ ایسے کسی کی حوس اقتدار اور حق خودارادیت میرے ملک کو کچھ نقصان نہی پہنچا سکتی۔ ابن قاسم کی آمد میرے وطن کی ابتداء تھی اور عزرائیل صدا انتہا ہوگی۔ اللہ میرے وطن کے مقصد کو پر انجام ہونے میں آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین ۔
راشد شیخ
15 جنوری 2018

No comments:

Post a Comment