Sunday, 6 September 2015

اصل یوم دفاع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔6 ستمبر 2015

اصل یوم دفاع ۔۔۔۔۔۔۔ 6 ستمبر 2015
آج مجھ سمیت محب وطن پاکستانیوں نے یوم دفاع انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا شکر ہے سوشل میڈیا وجود میں آگیا ورنہ نہ جانے ان لامحدود اور غیرضبط شدہ جذبات کا کیا ہوتا کہاں نکلتے ۔ 1965 میں تو ہم اپنے دفاع میں اتنے آگے نکل گئے کہ گھس بیٹھیئے بن گئے۔ اس گھس بیٹھی حرکت نے ہمارے جدی دشمن کو اپنی چال تبدیل کرنے کا عندیہ دیا کہ جسے تو تر نوالہ سمجھ بیٹھا ہے وہ کڑوے پانی سےترہے ذرا دیکھ بھال کر۔ اس ٹھوکر نے ہمارے دشمن کے آنکھ تو کھول دی لیکن ہماری آنکھ بند کردی۔ اور صرف 6 سال گذرنے کے بعد لاہور جیمخانہ میں جام پینے کا ناکام خواہش مند ہماری آدھی سرزمین پر قابض ہوگیا۔ اور وہ دو قومی نظریہ جس کی حفاظت و بقاء کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنے زندگی کو داؤ پرلگادیا تھا اس نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا دعوی کیا گیا۔ ابھی کچھ سال قبل ہی کی بات تھی جب قبلہ اول کے مقبوضہ ہونے کے غم میں ڈوبی تاریک مسجد نبوی میں آہوں سسکیوں سے لبریز فلسطینی پاکستان کی حفاظت کی دعائیں کررہا تھا اس امید پر کہ مقبوضہ قبلہ اول و فلسطین کے مددگار اسی سرزمیں سے اٹھیں گے۔ لیکن یہ کیا ہوا۔ اب تو یہ خود قابل مدد و مظلومیت کی کہانی بن چکا تھا۔ لیکن الحمداللہ اللہ رب العزت نے اپنے کلمہ کی بنیاد پر تشکیل پانے والے اس خطہ کی قوم کو ایک سخت امتحان کے کھڑا ہونے کی صلاحیت سے نوازا ۔ سقوط بنگال کے نتیجہ میں پاکستان کو تر نوالہ سمجھنے والی نام و نہاد عالمی طاقتوں نے سراٹھانا شروع کیا اور سرخ ریچھ جو اس وقت بے لگام تھا نے اپنا رخ اس کی طرف کیا۔ جبکہ انکل سام نے بھی دشمن کے دشمن کو دوست بنانے کے لئے ہماری مدد کا ٹھیکہ اٹھایا۔ اس مدد کا خفیہ مقصد بھی وہی تھا جو سرخ ریچھ کی پیش قدمی کا تھا۔لیکن اللہ رب العزت کو اس مدینہ ثانی کو نہ صرف بچانا تھا بلکہ عزت سے بھی نوازنا تھا ۔ سرخ ریچھ کی شکست کے بعد جب فتح کا جھنڈا اسلام اور مدینہ ثانی کے کاندھوں پرلہرانے لگا اور وجہ جہاد فی سبیل اللہ بنی تو نام و نہاد لوگوں کے کان کھڑے ہونے شروع ہوگئے۔ اس فہرست میں سب سے آگے انکل سام تھا۔جسکو اس جہاد میں جہاں غیر معمولی کامیابی پر اپنا عالمی تخت سجتا دکھائی دے رہا تھا تو دوسری طرف جذبہ جہاد سے مزین مسلمان اس کی عالمی حکمرانی کے  لئے خطرہ بنتے نظر آنے لگے۔ واشنگٹن میں بیٹھے ہمہ وقت بیدارمغز پاکستان کو مسلسل اپنے لئے ہی نہی بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرہ قرار دے رہے تھے۔ اور وجود پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کا جال بن رہے تھے۔ ایک عالمی طاقت کو شکست دینے کے بعد نئی طاقت کو مدمقابل آتا محسوس کرکے مدینہ ثانی کے سرکاری و غیرسرکاری محافظین نے بھی متحد اور طاقت کو جمع کرنا شروع کردیا۔ پھر وہی ہوا ایک نہی تمام عالمی طاقتوں کے اتحاد نے بلاواسطہ طور پر پاکستان پر حملہ کردیا۔ ایک مرتبہ پھر ملک پاکستان مدینہ ثانی نے اپنے پڑوس میں اپنے وجود کی جنگ غیر محسوس انداز میں لڑنا شروع کردی۔ جو الحمد للہ فتح سے ہمکنار ہوئی ۔ اس عرصہ میں جہاں پاکستان پر بیرونی حملہ ہوئے اور سرحدوں کے پار نہ صرف ملکی افرادی قوت نے اپنی جانیں نچھاور کیں بلکہ دیگر مسلم ممالک نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لیا۔ وہیں پر اندرونی خلفشاریت نے بھی جنم لیا جس پیچھے ان ہی قوتوں کے ہاتھ تھے جو سرحدوں پر برسرپیکار تھے۔ سیاسی مذہبی معاشرتی و معاشی انتشار کا ایک طوفان تھا جو تھمنے کو نہی آرہا تھا۔ یہ انتشار کمی کے بجائے بڑھتا ہی جارہا تھا۔ پراثرسیاسی اور مذہبی طاقتیں بھی اصلاحی اور سدھار کی کوششوں میں ناکامی سے دوچار تھی۔ دو عالمی طاقتوں کی شکست سے سبق نہ لینے والے ہمارے جدی دشمن نے بھی سرحدوں پرخاموشی کے سکوت کو توڑاہواتھا اور پاکستان کو ابھی تک تر نوالہ سمجھا ہوا تھا۔ وہ اپنی ہر ناکامی کے پیچھے پاکستان کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔اورایک مرتبہ گھس بیٹھیا بننے کے لئے پر تول رہا ہے۔ لیکن الحمد اللہ محافظین ملک و ملت نے بقائے پاکستان کو ہی اپنی بقاء کا سامان بنایا ہوا ہے اور نہ صرف بیرونی محاذوں پر بلکہ اندرونی محاذوں پر بھی دشمنوں اور ان کے مدد گاروں پر بجلی بن کر ٹوٹے ہوئے ہیں ۔ آج 50 سال کے بعد پاکستانی قوم ایک مرتبہ پھر آزادی کی سوندھی خوشبو سے معطر ہے۔ باہمی ناراضگیوں کے سورج غروب ہورہے ہیں ۔ وطن کو غیر محفوظ قرار دینے والے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔آج واقعی یہ محسوس ہورہا ہے کہ میرا ملک پوری دنیا میں میرے لئے محفوظ ترین پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اس کے نہ صرف بیرونی بلکہ اندونی گھس بیٹھیے اب اپنی قبریں خود کھودتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ظاہری طور پر دو عالمی طاقتوں اور درپردہ طور پر تمم عالمی جگوں کو شکست دینے کے بعد ایک مرتبہ پھر 1965 کی طرح کے پاکستان نے جنم لے لیا ہے اب اگر کسی کم نسل نے میرے وطن کی طرف کی میلی آنکھ اٹھانے کی کوشش کی تو شاید اس کو معذرت کا موقع نہی ملے گا۔
پاکستان زندہ باد۔

راشد شیخ
 ستمبر 6 ،  2015

No comments:

Post a Comment