Friday, 4 September 2015

حقیقی مظلوم



کس کس پوسٹ کو شیئر کروں اور کس کس کو نہ کروں ۔ یہاں تو قطار اندر قطار ظلم و بربریت کی داستانیں ہیں ۔ کبھی میرے اپنے ملک کی داستان سامنے آتی ہے تو کبھی بیرون کی۔ کبھی انفرادی تو کبھی اجتماعی ۔ کبھی معاشرتی تو کبھی معاشی۔ کہیں ظالموں کی فہرست میں مقتدر ہیں تو کہیں عوام ۔ کہیں طلم کا شکنجہ سیاسی ہے تو کہیں مذہبی۔ غرض اس عالم دنیا میں ہر طرف ظلم کی داستانیں ہیں جو وقتا فوقتا اس دنیا کے باسیوں کو بیان کی جاتی ہیں ۔ تصاویر کا ایک ذخیرہ جس کو میڈیا نے اپنا منجن یا چورن بنایا ہوا ہے ۔ کبھی بھوکے ننگے انسان دکھائے جاتے ہیں تو کبھی کٹی پھٹی لاشیں ۔ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پیپر میڈیا یا ہو سوشل میڈیا ہر وقت اور ہر لمحہ کمنٹس اور شیئرنگ کا دور دوراں ہے ۔ بحث کے لئے عالمی اذہان کی قطار لگی ہوئی ہے ۔ میں اور مجھ جیسے نہ جانے کتنے صرف اپ اور ڈاؤن کی کیز کو دباتے ہیں اور افسردہ لہجے میں استغفراللہ یا شٹ کے الفاظ ادا کرکے آگے نکل جاتے ہیں یا پھر ہمدردی کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے شیئر یا کمنٹس کردیتے ہیں۔ یہ سلسلہ نہ جانے کب سے بلا تعطل چل رہا ہے۔ کچھ سمجھ نہی آرہا کہ حقیقی ظالم کون ہے کس قوم یا مذہب سے اس کا تعلق ہے ؟ لیکن اس تمام بھیڑ اور شور و غل میں صرف ایک بات ہے جو سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہیکہ مظلوم کون ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو یا کسی بھی قوم سے بس مظلو ایک ہے۔
مسلمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راشدشیخ
9 ستمبر 2015

No comments:

Post a Comment